ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کشمیر کے متعلق جلسہ میں ہند مخالف نعرہ بازی کا معاملہ؛اے بی وی پی کارکنوں کا احتجاج ،پولیس کمشنر کے دفتر پر دھاوا کی کوشش

کشمیر کے متعلق جلسہ میں ہند مخالف نعرہ بازی کا معاملہ؛اے بی وی پی کارکنوں کا احتجاج ،پولیس کمشنر کے دفتر پر دھاوا کی کوشش

Wed, 17 Aug 2016 11:50:57    S.O. News Service

بنگلورو16؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) شہر میں پچھلے دنوں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے زیر اہتمام کشمیر میں بے قصوروں پر مظالم کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں منعقدہ ایک مذاکرہ کے دوران کچھ کشمیری طلبا کی طرف سے ہندوستانی فوج کے خلاف نعرہ بازی کئے جانے کے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے آج سنگھ پریوار سے وابستہ طلبا یونین اکھل بھارتیہ ودھیارتی پریشد کے کارکنوں نے خاطیوں پر کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دفتر پولیس کمشنر پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ ان طلبا کو روکنے کیلئے پولیس کو لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔ حالانکہ پولیس نے ان کارکنوں کو روکنے کیلئے کمشنر آفس سے بہت پہلے ہی بیاریکیٹ کھڑے کر رکھے تھے، اس کے باوجود بھی دفتر میں گھسنے کیلئے متعدد طلبا کی کوشش بیشار کو ناکام بنانے کیلئے پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا اورچند کو گرفتار بھی کرلیا۔ اے پی وی پی کارکنوں کی گرفتاری اور لاٹھی چارج کے بارے میں ڈپٹی کمشنر آف پولیس سندیپ پاٹل نے بتایاکہ آر سی کالج سے طلبا کا ایک گروپ راج بھون روڈ سے ہوتے ہوئے دفتر پولیس کمشنر کی طرف آگے بڑھا۔ پولیس نے جتنی تعداد میں طلبا کو اجازت دی تھی ، اس کے مقابل کافی بڑی تعداد میں طلبا دفتر پولیس کمشنر کی طرف آگے بڑھنے لگے، اس کی اطلاع پولیس کو نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے انہیں روکنے کیلئے پولیس کو قدم اٹھانے پڑے ۔ان طلبا کے لیڈروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایاکہ جو طلبا پولیس کی کارروائی کے بعد سڑکوں کے کناروں پر جمع تھے ، ان سے پولیس نے گذارش کی کہ وہ اپنا احتجاج واپس لیں، اچانک جلوس نکالنے سے نظم وضبط میں خلل کے اندیشوں سے ان لوگوں کو واقف کرایا گیا، اس کے باوجود بھی یہ لوگ جب جلوس پر بضد رہے تو نظم وضبط کو برقرار رکھنے پولیس کو جو کارروائی کرنی تھی ،قانون کے مطابق کی گئی۔ یہ طلبا اگر چاہتے تو پر امن طریقے سے بھی جلوس نکال سکتے تھے۔ اس طرح قانون کو ہاتھ میں لے کر ان طلبا نے دفتر کمشنر پر دھاوا بولنے کی جو کوشش کی وہ درست نہیں۔ اس دوران شہر میں ایک تقریب کے دوران فوج کے خلاف نعرے بازی کے معاملے میں ڈی سی پی سندیپ پاٹل نے بتایاکہ اس معاملے کی جانچ میں کافی تیزی آئی ہے، پروگرام کا اہتمام کرنے والے لوگوں سے جے سی نگر پولیس تھانہ میں پوچھ تاجھ جاری ہے۔ کل اس معاملے میں اسی پولیس تھانہ میں ایف آئی آر بھی درج کیاگیا ہے۔ اس سلسلے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے رضاکار اراکین سے حکام پوچھ تاچھ میں لگے ہوئے ہیں۔ اس پروگرام کے اہتمام کے سلسلے میں پولیس نے پانچ افراد کوطلب کیا ہے۔ پروگرام کی سی ڈی پولیس نے ضبط کرلی ہے۔ ویڈیو میں جن لوگوں نے بھی ملک اور فوج کے خلاف نعرے بازی کی ہے ان کی نشاندہی کرکے ان سے پو چھ تاچھ کی جائے گی۔ اس دوران پولیس ذرائع نے بتایاکہ تقریب میں طلبا نے نہ صرف فوج کے خلاف نعرے لگائے، بلکہ ملک مخالف نعرہ بازی کی اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ان لوگوں نے مطالبہ بھی کیا کہ کشمیر سے فوج ہٹائی جائے اور وہاں کے لوگوں کو آزادی سے جینے کا موقع دیا جائے۔پولیس نے اس سلسلے میں نعرے بازی کرنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا ہے، ضرورت پڑی تو پولیس اس پروگرام کا اہتمام کرنے والوں اور یونائٹیٹڈ سیالوجیکل کالج کے انتظامیہ سے جڑے ذمہ داروں کو گرفتار کرسکتی ہے۔ 


Share: